ابنا: مصرکے سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کي آمريت کي يادگار اور ملک کے وزيردفاع محمد حسين طنطاوي کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور فوج کي سربراہي سے ريٹائر کرنے کا حکم جاري کرنے والے صدر محمد مرسي نے ان قياس آرائيوں کي سختي کي ساتھ ترديد کي ہے کہ وہ فوج کو سياسي عمل سے دور کرنے کي کوشش کر رہے ہيں-
الازھر يونيورسٹي ميں خطاب کرتے ہوئے صدر محمد مرسي نے کہا کہ ميں مسلح افواج کا حامي ہوں اور ميري خواہش کہ فوج کے جوان اپني زندگياں ملک کے دفاع کے لئے وقف کرديں-
مصر کے صدر نے واضح کيا کہ وہ ايسا نہيں چاہتے کہ اپنے فيصلوں کےذريعے کسي کو ديوار سے لگاديں يا کسي کے بارے ميں کوئي غير منصفانہ فيصلہ کريں، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کي کوشش کررہے ہيں کہ نئي نسل کے تعاون سے اچھے مستقبل کي سمت قدم بڑھايا جائے جس کا ہميں کافي عرصے سے انتظار تھا-
دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ ملک کي آئين ساز کونسل نے فوجي کونسل کے سابق سربراہ اور ديگر ارکان سے تفتيش کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے، روزنامہ المصريون کے مطابق آئين ساز اسمبلي کےترجمان وحيد عبدالمجيد نے صدر محمد مرسي کي جانب سے کئے جانے والے فيصلے کے سامنے آنے کے بعد فيلڈ مارشل محمد حسين طنطاوي اور جنرل سامي عنان سے گزشتہ ڈيڑ سال کے دوران ملک ميں پيش آنے والے واقعات کے بارے ميں تفتيش کئے جانے کامطالبہ کيا ہے-
انہوں نے ايک ٹيلي ويژن پروگرام ميں کہا کہ ان دونوں کو صدر کامشير بنائے جانے کے باوجود ان سے باز پرس کئے جانے ميں کوئي قانوني رکاوٹ نہيں ہے- آئين ساز اسمبلي کےترجمان نے مصري عوام سے اتحاد ويکجہتي کے ساتھ ملک کي تعمير ميں حصہ لينے کي اپيل کي اور صدر مرسي کے فيصلوں کے خلاف بعض گروہوں کي جانب سے مظاہروں کي اپيلوں کي شديد الفاظ ميں مذمت کي- انہوں نے کہا کہ صدر کے فيصلے نے ملک کو بحران اور تشدد کي جانب لے جانے والوں کا راستہ روک ديا ہے-
ادھر اخوان المسلمين کے ايک سرکردہ رہنما نے کہا ہے کہ صحرائے سينا ميں مصري فوج کي کاروائي کيمپ ڈيوڈ معاہدے پر نظرثاني کا پيش خیمہ ثابت ہوگي-
محمد بدر نے العالم ٹيلي ويژن کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا کہ صحرائے سينا کا علاقہ کافي عرصے مصري حکمرانوں کي عدم توجہ کا شکاررہا ہے اور اس علاقے کے لوگوں کو دشوار معاشي صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہون نے يہ بات زور ديکر کہي کہ اس علاقے پر حکومت مصر کي مکمل علمداري قائم کرنا ضروري ہوگيا ہے- محمد بدر نے مزيد کہا کہ وہ نہيں سمجھتے کہ صحرائے سينا پر علمداري کے قيام ميں مصري حکومت کے فيصلے بيروني دباؤ سے متاثر ہوں گے- انہوں نے کہا صحرائے سينا ميں مصري حکومت کے تازہ اقدامات کيمپ ڈيوڈ معاہدے پر نظرثاني کاموقع فراہم کريں گے- انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر نظرثاني کا مطالبہ ايک قومي مطالبہ بن گيا ہے-
اخوان المسلمين کے رہنما محمد بدر نے کہا کہ مصري حکومت کو کيمپ ڈيوڈ معاہدے کي پابنديوں کو بالائے طاق رکھ کے اس علاقے ميں پوري قوت کے ساتھ موجود رہنا چاہيے اور اس معاہدے ميں تبديلي کرکے صحرائے سينا پر اپني مکمل عملداري کے قيام کا راستہ ہموار کرنا چاہيے-
درايں اثنا فلسطين کے منتخب وزيراعظم اسماعيل ہنيہ نے مصر کے نئے وزير دفاع کو ٹيلي فون پر مبارک باد پيش کرتے ہوئے کہا ہے فلسطين کي حکومت مصر کي سلامتي کا پور خيال رکھي گي اور کسي کو بھي مصر کي سلامتي کے ساتھ کھيلنے کي اجازت نہيں دے گي- انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ غزہ ميں انکي حکومت ، مصر کے ساتھ تعاون کے لئے پوري طرح تيار ہے،
واضح رہے کہ مصر کے صدر محمد مرسي نے اتوار کے روز ايک حکم کے ذريعے ملک کے وزير دفاع محمد حسين طنطاوي کو ان کے عہدے برطرف اور فوجي سربراہ کے عہدے ريٹائرڈ کرکے عبدالفتاح السيسي کو انکي جگہ وزير دفاع اور فوج کا سربراہ مقرر کرديا ہے-
مصر کے ٹيلي ويژن کا کہنا ہے کہ صدر محمد مرسي نے فوج کو غير معمولي اختيارات دينے والي آئيني ترميم کو بھي کالعدم قرار دے ديا ہے محمد مرسي کے اس فيصلے کا مصري عوام نے پرجوش خيرمقدم کيا ہے مصر کي اعلي فوجي کونسل کے سربراہ طنطاوي کي برطرفي کي خبر آتے ہي مصري عوام نے پورے ملک ميں اور خاص طور پر قاہرہ کي سڑکوں پرنکل کر جشن منايا مصري عوام نے صدر مرسي کے اس فيصلے کو مصر ميں انقلاب دوم کا نام ديا.
.......
/169